22 جون 2013 - 19:30
فلسطینی بچوں پر تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ بد نیتی پر مشتمل ہے

اسرائیل نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر نکتہ چینی کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج، فلسطینی بچوں کو گرفتار کرکے ان پر تشدد کرتی ہے اور کبھی انسانی ڈھال کے طور پر بھی ان کا استعمال کرتی ہے۔

ابنا: اقوام متحدہ کی بچوں کے حقوق کی کمیٹی (CRC) کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے بچوں کو قید تنہائی اور جنسی تشدد کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔21 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں فلسطینی عوام پر صہیونی ریاست  کے دوسرے مظالم جیسے کہ زمین ہتھیانے یہودی آبادکاری کا عمل جاری رکھنے اور سکیورٹی رکاوٹیں کھڑی کرنے سمیت دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی ہے۔صہیونی ریاست کی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بدنیتی کے ساتھ تیار کی گئی ہے۔تاہم، CRC کے چیئرپرسن کرسٹن سینڈبرگ نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ زمینی حقائق پر مبنی ہے نہ کہ سیاسی خیال بافیوں پر۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں اسرائیلی افواج نے 12 سے 17 برس تک کی عمر کے 7000 فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔رپورٹ میں کہ بھی کہا گیا ہے کہ ستمبر 2011 سے لے کر اب گرفتار کیے جانے والے فلسطینی بچوں کی تعداد میں 73 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں فلسطینی بچوں پر تشدد اور بیماری کی حالت میں علاج مہیا نہ کرانے کے متعلق درج کرائی گئی شکایتوں کے بارے میں آزاد تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔......./169